افغانی کوہ پیماؤں نے تاریخ رقم کی

افغانستان کے دو کوہ پیماؤں نے ہندوکش کے پہاڑی سلسلے کے پچیس ہزار فٹ اونچے نوشاق پہاڑ پر چڑھ کر ایک نیا کارنامہ انجام دیا ہے۔ تقریبا ساڑھے سات ہزار میٹر اونچے اس پہاڑ کو اب تک کسی افغانی نے سر نہیں کیا تھا۔
ملنگ جان دریا اور عامرالدین سنجر کو پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے سخت ترین ہواؤں اور برفباری کا سامنا کرنا پڑا۔
دونوں کو یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے چار روز لگے جس کے بعد انہوں نے چوٹی پر افغانستان کا پرچم نصب کیا۔
پہاڑ کی چوٹی سے تین ہزار میٹر نیچے ان کا کیمپ تھا جہاں محفوظ واپسی کے بعد بی بی سے فون پر بات کرتے ہوئے ملنگ دریا نے اپنے تجربہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' وہاں تیز و تند ہوا چل رہی ہے اور ہم دس منٹ بعد ہی واپس ہوگئے۔''
یہ پوچھنے پر کہ کیا وہ اس سے خوش ہیں ان کا کہنا تھا '' ہاں کیوں نہیں، کیونکہ میں پہلا افغان ہوں جو افغانستان کے سب سے اونچے پہاڑ پر پہنچ سکا ہے۔''
پینتیس سالہ ملنگ اور پچیس برس کے عامرالدین اس وادی میں رہتے ہیں جو نوشاق پہاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ دونوں اس چار رکنی افغانی ٹیم کا حصہ تھے جنہیں فرانس کی ایک ٹیم نے پہاڑ پر چڑھنے کی تربیت دی تھی۔
جن افغانیوں کو فرانس نے تربیت دی تھی وہ اب پہاڑ کی گائڈنس کے لیے کام کریں گے۔
ساٹھ کے عشرے میں افغانستان میں ہندو کش کی پہاڑیاں بیرونی ممالک کے کوہ پیماؤں کے لیے بہت مقبول تھی۔ اب اس کا اہتمام کرنے والے پر امید ہیں کہ افغانستان سے اس اچھی خبر سے بیرونی ممالک کے کوہ پیما بھی ان کی طرف راغب ہوں گے جس سے وہاں سیاحت کو فروغ ملےگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















