فلو کی دوا تک لوگوں کی رسائی

برطانیہ میں حکومت نے سوائن فلو سے نمٹنے کے لیے ایک نیشنل فلو سروس شروع کی ہے جس سے ہزاروں لوگوں کو ڈاکٹر سے رابطہ کے بغیر فلو کی دوا تک رسائی ممکن ہوگی۔
فون اور ویب سائٹ پر چلنے والی دنیا میں اپنی طرح کی یہ پہلی سروس صرف انگلینڈ کے لیے ہوگی۔اس سروس کا مقصد نیشنل ہیلتھ سروس پر سے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
تاہم حاملہ خواتین، پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا افراد اور ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوگا۔
محکمہ صحت نے اعتراف کیا ہے کچھ کہ لوگ اس سہولت کا غلط فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں لیکن چیف میڈیکل افسر سر لیام ڈونلڈسن کا کہنا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو اس صدی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کی مدد کے لیے اتنی قیمت چکانے میں کوئی ہرج نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر شخص کے لیے ایک الگ نمبر ہوگا اس لیے اگر کوئی شخص ایک مرتبہ سے زیادہ اینٹی فلو دوائی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو سروس کو معلوم ہو جائے گا۔اس کے علاوہ دوا لیتے وقت لوگوں کو مریض کی شناخت بتانی ہوگی۔
فلو سروس شروع کرنا حکومت کے ہنگامی اقدامات میں شامل تھا لیکن یہ سروس خزاں میں شروع کی جانی تھی جس کے تحت اب پندرہ سو کال سینٹر کا عملہ کام کرے گا جس کے پاس ایک چیک لسٹ ہوگی اور وہ پتہ لگائیں گے کہ جو شخں فون کر رہا ہے اسے سوائن فلو ہے یا نہیں۔
فلو ہونے کی صورت میں ایک واؤچر نمبر دیا جائے گا جس کی مدد سے کیمسٹ سے فلو کی دوا حاصل کی جاسکتی ہے۔ لوگ ویب سائٹ پر فارم بھر کر بھی واؤچر نمبر حاصل کر سکتے ہیں۔
مسٹر ڈونلڈسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس اس وباء کو پھیلنے سے روکنے کی سمت پہلا قدم ہے اس فلو سے اب تک دنیا بھر میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انگلینڈ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اکتیس ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















