ایران: نائب صدر کی تعیناتی منسوخ

سپریم لیڈر کی طرف سے مخالفت کے بعد صدر احمدی نژاد نے مسٹر مشائی کی تعیناتی کے احکامات منسوخ کر دیے
،تصویر کا کیپشنسپریم لیڈر کی طرف سے مخالفت کے بعد صدر احمدی نژاد نے مسٹر مشائی کی تعیناتی کے احکامات منسوخ کر دیے
وقت اشاعت

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسفندیار رحیم مشائی کی بطور نائب صدر تعیناتی کے احکامات منسوخ کر دیے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسفند یار رحیم مشائی کو ملک کا نائب صدر تعینات کرنے کی مخالفت ان کے گزشتہ سال کے اس بیان کی بنیاد پر کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اسرائیلی عوام کا دوست ہے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو لکھے گئے ایک خط میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ اسفند یار رحیم مشائی کی بطور نائب صدر تعیناتی ’آپ کے اور حکومت کے مفادات کے خلاف ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اس تعیناتی کی منسوخی کا اعلان کریں۔‘

سپریم لیڈر کی طرف سے مخالفت کے بعد صدر محمود احمدی نژاد نے مسٹر مشائی کی بطور نائب صدر تعیناتی کے احکامات منسوخ کر دیے۔

اس سے پہلے خود اسرائیل کے خلاف سخت موقف رکھنے والے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے اسفند یار رحیم مشائی کا یہ کہہ کر دفاع کیا تھا کہ وہ اعتدال پسند خیالات رکھنے والے اور ایران کے اسلامی نظام کے وفادار ہیں۔

سخت گیر موقف رکھنے والے سینکڑوں طلباء نے ایران کے دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر مسٹر مشائی کو ہٹانے کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسفندیار رحیم مشائی کو نہ ہٹایا گیا تو وہ صدر محمود احمدی نژاد کی حمایت ترک کر دیں گے۔

مظاہروں کے دوران نعرے لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم سے روگردانی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ریاست کے معاملات میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی رائے کو حتمی سمجھا جاتا ہے اور ان کے احکامات سے روگردانی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ تاہم گزشتہ ماہ اس میں اس وقت تبدیلی دیکھنے میں آئی جب اصلاح پسندوں نے صدارتی انتخابات کے آزادانہ ہونے کے بارے میں سپریم لیڈر کے بیان کو ماننے سے انکار کر دیا۔

نامہ نگاروں کے خیال میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد کے مابین اختلافات ایرانی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت صدر احمدی نژاد کو سخت گیر موقف رکھنے والی لابی کی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ وہ اصلاح پسندوں کا مقابلہ کر سکیں جو ان کے انتخاب کو فراڈ پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جون لائن کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ مسٹر احمدی نژاد رجعت پسندوں کی طرف سے کتنے دباؤ میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ رجعت پسند دھڑے کا اندرونی جھگڑا ہے تاہم برسرِ اقتدار طبقات کے اندر اس نوعیت کے اختلافات کو دیکھ کر اصلاح پسندوں کو حوصلہ ملے گا۔