چین کا عربی ٹی وی چینل

چین عربی زبان میں ٹیلی ویژن چینل شروع کر رہا ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں لوگوں کو چین کی ’حقیقی‘ تصویر دکھانا ہے۔ چین کے مرکزی ٹی وی سٹیشن (سی سی ٹی وی) سے چوبیس گھنٹے عربی زبان میں خبریں اور فنون لطیفہ اور ثقافت کے بارے میں پروگرام نشر ہوں گے۔
چین کا کہنا ہے کہ کئی غیر ملکی عالمی نشریاتی ادارے اپنے پروگراموں کے ذریعے چین کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چین اس ٹی وی چینل کے ذریعے عربی زبان بولنے والے لوگوں کو ’حقیقی چین‘ متعارف کروانے کی کوشش کرے گا۔
سی سی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لیے کثیر الزبان، کثیر النظریاتی اور کثیر الجہتی نشریاتی ادارہ بن کر کام کرنا ناگزیر ہو گیا ہے‘۔
عربی ٹی وی چینل کے افتتاح کے موقع پر ادارے کے نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ ’دنیا چین کو چین کو زیادہ بہتر طور پر جان سکے گا‘۔
سی سی ٹی وی پہلے ہی انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی اور چینی زبان میں پروگرام نشر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چینی زبان کے اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ بھی انگریزی ایڈیشن شروع کر چکا ہے۔ چین ستمبر سے روسی زبان کا چینل بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔
عربی زبان کا چینل پچیس جولائی سے کام شروع کر دے گا اور اسے عربی زبان بولنے والے بائیس ممالک میں تیس کروڑ لوگ دیکھ سکیں گے۔ ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ اس چینل پر کتنی لاگت آئے گی اور وہ ان کا کتنے ناظرین حاصل کرنے کا ہدف ہے۔ ابتدائی طور پر اس میں اسی لوگ کام کریں گے اور عربی زبان بولنے والے چینی پیشکار پروگرام پیش کریں گے۔
چین کو عرصے سے شکایت رہی ہے کہ غیر ملکی صحافی اس کے بارے میں متعصبانہ رپورٹنگ کرتے رہے ہیں اور اب وہ چاہتا ہے کہ دنیا کو اصل چین دکھایا جا سکے۔


















