پارلیمانی کمیٹی: حماس سے رابطے پر زور

ایک برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پر کنٹرول رکھنے والی فلسطینی تنظیم حماس سے بات چیت شروع کرے۔
برطانوی دارالعوام کی فارن افیئرز کمیٹی نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ حماس کی طرف سے بڑے پیمانے پر تعاون کے بغیر پائیدار امن کا حصول مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حماس سے بات چیت کرنے سے مسلسل انکار کر کے برطانیہ کچھ بھی حاصل نہیں کر رہا۔
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کو حماس کے اعتدال پسند عناصر کے ساتھ فوری طور پر رابطے بحال کرنے پر غور کرنا چاہیے جس طرح اس نے اس سال کے شروع میں حزب اللہ کے سیاسی ونگ سے رابطے بحال کر کے کیا تھا۔
کمیٹی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ برطانیہ کا مہیا کردہ اسلحہ یقینی طور پر غزہ پر اسرائیلی حملے میں استعمال ہوا ہے۔
کمیٹی نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں سے مشروط کر دے۔
کمیٹی کے چئرمین مائیکل گیپس نے کہا کہ غزہ کو امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے ناقابلِ قبول ہے۔
اگرچہ ہاؤس آف کامنز کی فارن افیئرز کمیٹی کے پاس کوئی باقاعدہ اختیار نہیں ہیں لیکن یہ حکومتی پالیسی میں تبدیلی کی سفارش کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
امریکہ اور یورپی یونین کی طرف برطانیہ بھی اس وقت تک حماس سے بات چیت کرنے کے خلاف ہے جب تک یہ تنظیم تشدد کو ترک کر کے اسرائیل کے بقا کے حق کو تسلیم نہیں کر لیتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















