شام امن کے لیے تعاون کرے: امریکہ

جارج مچل اور بشر الاسد
،تصویر کا کیپشنمسٹر مچل کا جون سے اب تک دمشق کا یہ دوسرا دورہ ہے
وقت اشاعت

امریکہ نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر امن کے قیام کے لیے ’مکمل تعاون‘ کرے۔

صدر براک اوباما کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی اہلکار جارج مچل نے دمشق میں شام کے صدر بشر الاسد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ بات چیت خوشگوار اور مثبت رہی۔

مسٹر مچل کا جون سے اب تک دمشق کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس دورے کے بعد وہ اسرائیل روانہ ہوں گے۔ اسرائیل کے دورے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ سے بات چیت شروع کروانا ہے۔

امریکی اہلکار کا دمشق کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب غیر معمولی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور رواں ہفتے کے دوران اوباما انتظامیہ کے کئی سرکردہ اہلکار اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔

مسٹر مچل نے کہا ہے کہ ’اگر ہم وسیع پیمانے پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عربوں اور اسرائیلیوں کی کوششوں کی یکساں ضرورت ہوگی۔ اور ہم اس تاریخی عمل میں شام کے تعاون کو خوش آمدید کہیں گے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جارج مچل کے اس دورے سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع تو نہیں تھی لیکن اس سے شام میں واشنگٹن کے حوالے سے یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ وہ نئے سرے سے ان کی بات سننا چاہتا ہے۔

بیروت سے بی بی سی کی نٹالیہ انٹیلاوا کا کہنا ہے کہ شام کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ فلسطین کے شدت پسند گروہ حماس اور لبنان میں حزب اللہ کا بھی حامی ہے جس کے باعث اس خطے میں اس کا ایک اہم کردار ہے۔ اور انہی سب وجوہات کی بنا پر شام ماضی میں بش انتظامیہ کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ واشنگٹن شام کی مکمل حمایت حاصل کرنے سے ابھی بہت دور ہے لیکن بش دور میں دیکھی جانے والی کشیدگی کی فضا فی الحال ماضی کا قصہ لگ رہی ہے۔

جارج مچل کے علاوہ امریکہ کے دفاعی سیکرٹری رابرٹ گیٹس اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیمز جانز بھی بات چیت کے لیے اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق امریکی اہلکاروں کے اس دورے میں ایران کا جوہری پروگرام ضرور زیر بحث آئے گا۔

اس بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بحث بہت اہمیت کی حامل ہے لیکن بات چیت کا مقصد اسرائیل، فلسطین اور عرب دنیا کے مابین امن قائم کرنے کے لیے ممکن عوامل پر غور کرنا ہے۔