برطانوی پاکستانی: کتوں کی لڑائی

برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں میں کتوں کی لڑائی کا شوق بڑھتا جا رہا ہے اور اس پر رقمیں بھی لگائی جاتی ہیں۔
برمنگھم میں پولیس نے اس کے خلاف کارروائی بھی کی ہے لیکن اس کے خلاف کام کرنے والے ایک ایشیائی نوجوان کا کہنا ہے کہ لوگوں کا رویہ مایوس کن ہے۔
اس نوجوان کے مطابق 'اس بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ کتے خود چاہتے ہیں کہ لڑیں۔ میں ان کی اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تو انسان ہیں جو کتوں کو لڑاتے ہیں۔ اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کتے نہیں کرتے ان کے پاس تو انکار کا رستہ ہیں نہیں ہوتا'۔
اس بارے میں بی بی سی ریڈیو فور کے امر دیپ باسے کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار پال فوسٹر کو سب سے پہلے کتوں کے بھونکنے اور غرانے کی ان آوازوں نے متوجہ کیا جو برمنگھم میں باورچی خانوں کے ایک پرانے شو روم کے عقب سے آ رہی تھیں۔
جیسے ہی وہ اور قریب گئے تو کتوں کی آوازوں کے ساتھ ساتھ انہیں لوگوں کی خوشی سے بھری پرجوش آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔
اندرونی شہر کے نواحی علاقے الم روک میں جو پاکستانیوں کا اکثریت علاقہ سمجھا جاتا ہے، پولیس نے جو کچھ دیکھا وہ ایک انتہائی غیر متوقع اور مضطرب کردینے والے جرم کا منظر تھا۔
پولیس اہلکار راجرز نے بی بی سی کو بتایا کہ سب سے پہلے اس کی نظر لمبے سیاہ بالوں والے اس چھوٹے کتے پر گئی جس کے بال خون میں بری طرح لتھڑے ہوئے تھے۔ یہ اس نسل کا کتا تھا جو کبھی لومڑیوں کے شکار کے زمانے میں لومڑیوں کو ان کے بھٹ سے نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
برطانیہ میں دو سال پہلے بھی کتوں کو لڑانے پر چھبیس افراد کو سزائیں ہو چکی ہیں کیونکہ برطانیہ میں کتوں کی لڑائی ممنوع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں کتوں کی لڑایی پہلے بھی ہوتی تھی لیکن بہت عرصہ پہلے اور یہ دیہی علاقے کے سفید فام مزدور طبقے کا شوق تھی۔
لیکن الم روک میں نئی بات یہ ہے کہ اب اس میں ایشیائی ملوث ہیں اور اس کے لیے انتہائی منظم طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اور پھر اس پر ہزاروں کی شرطیں بھی لگائی جاتی ہیں۔
یہ جاننے کے بعد کتوں کی یہ لڑائی ایشیائی برادری کا مسئلہ بن گئی ہے پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

چیف انسپکٹر آئن برگس کا کہنا ہے کہ آپریشنل پولیس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ تین سال کے دوران کتوں کی لڑائی چار گنا بڑھی ہے اور اس سلسلے میں جتنے بھی لوگ اب تک ملوث پائے گئے ہیں ان میں اٹھانوے فیصد ایشیائی ہیں۔
برگس کا خیال ہے کہ اب بھی ہر ہفتے کتوں کی لڑائی ہوتی ہے اور اس میں کسی پارک میں کتے لڑانے سے الم روک میں منکشف ہونے والی منظم لڑائی تک سب شامل ہیں۔
ان کے مطابق 'ایک جگہ لڑائی پکڑے جانے سے کسی اور جگہ ایسے ہی لڑائی کا سرا ملتا ہے لیکن اس کے باوجود اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب تک ہم نے صرف اس معاملے کی سطح تک ہی ہیں'۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک جو تفصیلات جمع کی ہیں ان کے مطابق اس مقصد کے لیے کتوں کی باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے جس میں انہیں نہ صرف خاص خوراک اور دوائیں کھلائی جاتی ہے بلکہ روزانہ دن میں تین تین بار تیس تیس منٹ تک ٹریڈ مل پر دوڑایا بھی جاتا ہے۔
ہینڈس ورتھ میں نوجوانوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ 'اصل میں تو ایک بے مثال کتا تیار کرنے کو کوشش کی جا رہی ہے'۔
ان کے مطابق ایک ایسا کتا جو منفرد ہو، جس کے جبڑے انتہائی طاقتور ہوں، جس میں بے پناہ قوتِ برداشت ہو اور سب سے بڑھ کر جس میں مقابل کو بھنبھوڑ ڈالنے مار ڈالنے کی خُو ہو۔ جس کتے میں یہ خوبیاں ہوں گی اس کے لیے لوگ پیسے دیں گے اور اسی میں پیسے آتے ہیں'۔
اس دوران ایسی شہادتوں کو بارے میں بھی بتایا گیا ہے جن سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ کچھ نوجوان برطانوی پاکستان میں ہونے والی کتوں کی لڑائی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایک نوجان کارکن بشارت نجیب کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے تماشائی خاصی تعداد میں برطانیہ سے پاکستان کے چکر لگاتے ہیں۔ ان میں سے کئی لڑاکا کتوں کے مالک ہوتے ہیں جو وہاں کتوں کی دیکھ بھال کے لیے رکھے جانے والے لوگوں کو پیسے بھی دیتے ہیں۔

بشارت کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں کتے لڑانے والوں میں برطانوی کھلاڑیوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کے پاس پیسے دوسروں کے مقابلےمیں زیادہ ہوتے ہیں۔
دیہی پنجاب اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کتوں کی لڑائی زندگی کے معمولات کا حصہ ہے اور خدشہ یہ ہے کہ یہ شوق ان نوجوانوں میں آئے گا جو اپنے بزرگوں اور رشتے کے بھائیوں کو یہ شوق کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
لیکن اس کی انتہا کیا ہو گی اس بارے ایک نوجوان سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ لوگوں کی اکثریت کتوں کی لڑائی کے حق میں نہیں لیکن لوگ یہ سجھتے ہیں کہ ' کتوں کی لڑائی بھی ایسے ہی ہے جیسے منشیات، جو کبھی بند نہیں ہو سکیں یا جسم فروشی جو ہمیشہ سے چل رہی ہے۔ یہ کتوں کی لڑائی بھی ایسی ہی ایک چیز ہے جو چوری چھپے جاری رہتی ہے اور لوگ اس بارے میں تجسس رکھتے ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ یہ ہو رہی ہے'۔






















