گوانتانامو کا کم عمر ترین قیدی

Image
وقت اشاعت

امریکہ میں ایک جج نے خلیج گوانتانامو میں قید سب سے کمر عمر قیدی محمد جواد کی رہائی کا حکم صادر کیا ہے۔

امریکہ میں ڈسٹرک کورٹ کے جج ایلن ہوویلی نے کہا کہ محمد جواد کو اگست کے آخر تک رہا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متوقع طور پروہ گھر واپس چلے جائیں گے۔

حکومتی وکلاء نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ محمد جواد کے خلاف مجرمانہ الزامات کی پیروی کریں گے۔

محمد جواد پر دو امریکی فوجیوں اور ان کے مترجم کو گرنیڈ پھینک کر کے زخمی کرنے کا الزام ہے۔

محمد جواد کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سن دوہزار دو میں جب انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کی عمر صرف بارہ برس کی تھی لیکن امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق اس کی عمر سترہ سال تھی۔ محمد جواد گزشتہ ساڑھے چھ برس سے گوانتانامو بے کے کیمپ ڈیلٹا میں قید ہیں۔

قبل ازیں محمد جواد کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ محمد جواد کو رہا کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک جواد کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

ڈپٹی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل این گیرشنگورن نے عدالت میں کہا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ محمد جواد کے خلاف الزامات کی پیروی کی جائے۔

جج نے حکومتی وکلاء سے کہا کہ وہ محمد جواد کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کے لیے تین ہفتے دیتی ہے۔ جج نے حکومتی وکلاء پر زور دیا کہ وہ محمد جواد کے خلاف فرد جرم عائد نہ کریں۔

جج نے کہا کہ اس نوجوان نے پہلے ہی بہت کچھ بھگت لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ہولناک، طویل، اذیت ناک تاریخ کے بعد حکومت اس کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہو جائے گی۔