افغان انتخاب کا بائیکاٹ کریں: طالبان

افغانستان میں طالبان نے عوام سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی اور صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔
طالبان کی ایک ویب سائٹ پر شائع ہونے ایک بیان میں تنظیم نے اپنے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے موقع پر سڑکوں کو بند کر دیں اور لوگوں کو پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے سے روکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں شرکت ’حملہ آور امریکیوں‘ کے لیے حمایت کا مظاہرہ ہو گا۔
انتخابات سے پہلے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پولنگ کے روز سکیورٹی کی صورتِ حال کے بارے میں شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بِلال سروری نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں ہے لیکن یہ بیس اگست کو ہونے والے انتخابات سے پہلے دی جانے والی سب سے واضح دھمکی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم انہیں کیسے افغان الیکشن کہہ سکتے ہیں جب ملکی روایت کے برعکس اس کی منصوبہ بندی بھی امریکیوں نے کی اور اس پر پیسے بھی امریکی لگا رہے ہیں۔‘
طالبان کے پیغام میں جنگجوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی مراکز پر حملے کریں اور لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکیں اور پولنگ سے ایک روز پہلے تمام سڑکیں اور شاہراہیں سرکاری اور نجی گاڑیوں کے لیے بند کر دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کو مزاحمت اور جہاد کے ذریعے افغانستان کو آزاد کرانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صرف گزشتہ ہفتے کے دوران افغان انتخابی مہم پر دو حملے کیے گئے ہیں۔
منگل کو صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی انتخابی مہم کے مینیجر اس وقت زخمی ہو گئے جب لغمان صوبے میں ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ اس سے دو روز پہلے حامد کرزئی کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار محمد قاسم فہیم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات بیس اگست کو ہو رہے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران افغان صدر حامد کرزئی دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کی کوشش کریں گے۔ کل چالیس امیدوار ان انتخابات میں ان کا مقابلہ کریں گے۔
یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ انتخابات کے موقع پر شمال مغربی صوبے بدغیس میں طالبان مزاحمت کاروں کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔






















