افغانستان: شہریوں کی ہلاکتیں بڑھ گئی

فرح میں ہلاکتیں
،تصویر کا کیپشنعام شہریوں کی ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے
وقت اشاعت

اس سال اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں چوبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں مزاحمت کاروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے جان لیوا حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ حکومتی اور اتحادی فورسز کی طرف سے فضائی حملوں کو بھی ان بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزاحمت کاروں کے حملوں میں اتحادی افواج کی نسبت زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ یہ بھی ہے کہ شدت پسند شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

جون میں امریکی فوج نے تسلیم کیا تھا کہ اسے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش ہے۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو کی سربراہی میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے کہا ہے کہ فوج کو چاہیئے کہ وہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انتخابات سے قبل امریکی فوج اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں زیادہ شہریوں کی ہلاکت کا بھی خطرہ موجود ہے۔