ایشیا کی پہلی خاتون صدر کا انتقال

فلپائن کی سابق صدر کوریزون اکینو کے خاندان نے کہا ہے کہ ان کا چھہتر برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ ایک برس سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں اور کچھ عرصہ قبل انہوں نے علاج جاری رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔
ان کے اہل خانہ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی تقدیر خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دی تھی جس کے بعد ان کی صحتیابی کے لیے گرج گھروں میں خصوصی دعائیں مانگی گئی تھی۔ان کی صحتیابی کے لیے منعقد ہونے والی دعائیہ تقاریب میں کم سے کم سے ایک بار ان کے سابق سیاسی حریف صدر ایسٹراڈا اور سابق خاتون اول ایملڈا مارکوں بھی شریک ہوئی تھیں۔
بیگم اکینو انیس سو چھیاسی میں ’عوامی طاقت‘ کے بل بوتے پر سابق آمر فرڈیننڈ مارکوس کی جگہ پر اقتدار میں آئی تھیں۔
اکینو اپنے خاوند معروف سینیٹر بینینو اکینو کے قتل کے بعد سیاست میں آئی تھیں جو اس وقت صدارت کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے تھے۔ سینیٹر اکینو اس وقت تک صدر مارکوس کی جانب سے مارشل لاء لگائے جانے کے بعد سات سال جیل میں گزار چکے تھے۔قید میں باہر کی دنیا سے ان کا واحد رابطہ ان کی اہلیہ اکینو ہی تھیں۔
صدر اکینو نے انیس سو چھیاسی میں انتخابات جیتنے کے بعد انتہائی مشکل حالات میں ملک کا نظام سنبھالا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان کو چھ سالہ دور کے دوران بغاوتوں کا اور عوامی سطح پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم انہوں نے ملک کو جمہوریت کی راہ پر ڈال دیا۔


















