ڈنمارک کے وزیر اعظم نیٹو کے سربراہ

راسمسان
،تصویر کا کیپشنماضی میں کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے پر ان کا موقف کافی سخت تھا
وقت اشاعت

ڈنمارک کے وزیر اعظم اینڈرز فو راسمسان کو نیٹو کا نیا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے اور انہوں نے سنیچر کو اپنا عہدہ سنبھالا ہے۔ انہوں نے امریکی فوجوں کے شانہ بشانہ اپنی فوجیں عراق میں تعینات کی تھیں۔

اس سے قبل ہالینڈ کے ژاپ دی ہوپ نیٹو کے سربراہ تھے۔

کہا جارہا ہے کہ اپریل میں نیٹو کے اجلاس سے قبل، راسمسان کو نیٹو کے اہم ترین ارکان یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم ان کی راہ میں ترکی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہورہا ہے۔ ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے وزیراعظم راسمسان سے ذاتی طور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2006 میں ڈنمارک میں پیغمبر اصلام کے تضحیک آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے بعد اسلامی دنیا ان سے بے حد ناخوش ہے۔

راسمسان نے گزشتہ تین مدتوں سے ڈنمارک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال رکھا ہے۔ ایک ایسے وقت جب افغانستان کی جنگ مہنگی پڑتی معلوم ہورہی ہے، انہیں نیٹو کے سربراہ کے طور پر کچھ کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ تاہم کہا جارہا ہے کہ سات سال سے زائد کے عرصے کے لیے بطور وزیر اعظم سیاست کا تجربہ ان کے لیے کافی مددگار ثابت ہوگا۔

ماضی میں کارٹونوں کی اشاعت کے معاملے پر ان کا موقف کافی سخت تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کی آزادی کے حق میں ہیں جبکہ کارٹونوں کی مخالفت کرنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے موقف میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا۔