احمدی نژاد کی جیت کی باقاعدہ توثیق

محمود احمدی نژاد
،تصویر کا کیپشناحمدی نژاد کے لیے اصل چیلنج ایک قابل اعتماد کابینہ کی تشکیل ہے
وقت اشاعت

سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائ نے باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب میں محمود احمدی نژاد کی جیت کی توثیق کر دی ہے۔

سپریم لیڈر نے باقاعدہ توثیق کا اعلان محمود احمدی نژاد کی باقاعدہ حلف برداری سے دو دن پہلے کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی العام کا کہنا ہے کہ اس موقع پر دو سابق صدور اور حزب اختلاف کے اہم رہنما اس موقع پر موجود نہیں تھے۔

ایران میں پیر کے دن سےمحمود احمدی نژاد کی باقاعدہ رسمی طور پر دوسری مدت کے لیے صدر کے عہدے کے لیے تقرری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اسی دوران حزب اختلاف اور ان کے حامیوں کی جانب سے جن میں محمد خاتمی بھی شامل ہیں ان پر بڑھتی ہوئی تنقید جاری ہے۔

احمدی نژاد کی دوبارہ بطور صدر تقرری کی تیاریوں کے دوران حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں کی ہیں۔ سو کے قریب حزب اختلاف کے اہم افراد کو عدامت میں مقدمہ چلانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے مرکزی رہنماؤں نے اس مقدمے کو صرف دکھاوے کا عمل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ اس مقدمے کی کارروائی کے دوران ٹیلی ویژن پر کچھ افراد کو اقبال جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

ان میں ایک سابق نائب صدر کو اپنے تفتیش کاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے انہیں گمراہی سے بچایا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ساری کارروائی حزب اختلاف کو دھمکانے کا عمل لگتی ہے نہ کہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے کی کوشش۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مقدمے کی کارروائی ایران کے حزب اختلاف میں مزید غم و غصہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت یہ واضح نہیں کہ اس ہفتے حزب اختلاف کس طرح کے مظاہرے کا پروگرام بنا رہی ہے۔

احمدی نژاد کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ دوبارہ سے عہدہ صدارت پر تقرری کے بعد کوئی ایسی قابل اعتماد کابینہ تشکیل دے پائیں جس کی پارلیمان توثیق بھی کر دے۔