کلنٹن شمالی کوریا کے دورے پر

بل کلنٹن
،تصویر کا کیپشنبل کلنٹن سابق وزیرِ خارجہ میڈلین البرائٹ کے بعد پہلے اعلیٰ امریکی ہیں جنہوں نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا ہے
وقت اشاعت

سابق امریکی صدر بل کلنٹن ایک غیر اعلانیہ دورے پر شمالی کوریا پہنچے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ شمالی کوریائی حکام سے دو امریکی صحافیوں کے بارے میں بات کریں گے جو پیانگ یانگ میں قید ہیں۔

وہ سنہ 2000 میں سابق وزیرِ خارجہ میڈلین البرائٹ کے بعد امریکہ کی سب سے اعلیٰ شخصیت ہیں جنہوں نے شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے۔

ابھی تک ان کے دورے کی کوئی سرکاری وجوہات نہیں بتائی گئیں لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ وہاں امریکی صحافیوں لورا کنگ اور ایوانا لی کو رہا کروانے کی کوشش کریں گے جن کو بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے متعلق مذاکرات پر بھی تعطل ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

1994 میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا جس کی وجہ سے جوہری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی۔

تاہم اب بھی دونوں ممالک میں سخت تناؤ پایا جاتا ہے۔ امریکی صحافیوں کی سزا کے علاوہ شمالی کوریا نے حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی میزائل ٹیسٹ کیے ہیں۔

سابق صدر کلنٹن کا طیارہ پیانگ یانگ کے ہوائی اڈے پر اترا جہاں شمالی کوریا کے حکام نے، جن میں مرکزی جوہری مذاکرات کار کم کی گوان اور پارلیمان کے نائب صدر کِم کی گیوان بھی شامل تھے، سابق امریکی صدر کا استقبال کیا۔

اس طرح کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بل کلنٹن شمالی کوریائی رہنما کم یونگ ال سے ملاقات کریں گے، جو اپنا جانشین مقرر کر نے سے پہلے واشنگٹن سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔