’مجبور خودکش بمبار‘ لڑکی کو قید

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنعراق میں امریکی فوج کی مداخلت کے بعد سے ْری تعداد میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا
وقت اشاعت

عراق کے صوبے دیالہ میں بچوں کی عدالت نے ایک سولہ سالہ لڑکی کو خودکش حملے کی کوشش کے الزام میں ساڑھے سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

رانیا ابراہیم کو القاعدہ کے گڑھ تصور کیے جانے والے صوبے دیالہ کے دارالحکومت بقوبہ سے گزشتہ سال اگست کے مہینے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رانیا کی گرفتاری کی ویڈیو میں دیکھایا گیا ہے کہ پولیس ان کے لمبے لباس کو اتار کر جسم سے بندھی ہوئی خودکش جیکٹ کو الگ کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں بچگانہ چہرے والی رانیا شش و پنج میں مبتلا نظر آ رہیں تھیں۔

رانیا کے بیان کے مطابق ان کے شوہر کے ایک رشتہ دار نےانہیں جیکٹ پہننے کو کہا تھا۔ بعد میں دیکھائی گئی ایک اور ویڈیو میں رانیا نے پولیس کے سربراہ کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے جبکہ پولیس کے مطابق گرفتاری کے وقت وہ ادویات کے زیرِ اثر لگ رہی تھیں۔

رانیا نے گیارہ سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا تھا اور گرفتاری سے پانچ ماہ پہلے انہیں شادی میں بیچ دیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کے ایک عزیز نے انہیں یہ جیکٹ پہننے اور باہر کسی دوسری ہدایات تک انتظار کرنے کو کہا۔

عراق میں تعینات امریکی فوج نے انہیں ایک ’مجبور خودکش بمبار‘ قراد دیا تھا جنہیں زبردستی یا دھوکے سے خودکش حملے کے لیے کہا گیا۔ لیکن گرفتاری کے ایک سال بعد رانیا کو بچوں کی ایک عدالت نے قصور وار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

واضح رہے کہ رانیا کا واقعہ منفرد نہیں ہے کیونکہ عراق میں امریکہ کی فوج کشی کے بعد سے درجنوں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔