دوا کی بحائے دعا، بچی ہلاک

ڈاکٹر کو خدا پر ترجیح نہیں دے سکتا تھا: ڈیل نیومن
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کو خدا پر ترجیح نہیں دے سکتا تھا: ڈیل نیومن
وقت اشاعت

امریکہ میں ایک جیوری نے ایک باپ کو اپنی گیارہ سالہ بیمار بیٹی کا دوا کی بجائےدعا سے علاج کرنے پر اسے مجرم قرار دیا ہے جس کے تحت اسے پچیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس لڑکی کی ماں کو بھی جیوری پہلے ہی قصور وار قرار دے چکی ہے۔

امریکی ریاست ویسکوسن کے رہائشی ڈیل نیومن نے عدالت کو بتایا کہ اسے یقین تھا کہ خدا اس کی بیٹی کو بہتر کرے گا۔

گیارہ سالہ لڑکی ذیابیطس کو مرض لاحق تھا لیکن اس کے باپ نے لڑکی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے انکار کیا۔ ڈیل نیومن نے کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ اپنی بچی کی صحتیابی کے لیے ڈاکٹرسے رجوع کریں تو وہ ڈاکٹر کو خدا سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے ۔

ڈیل نیومن نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ان کی بچی کو زکام اور بخار ہے اور انہیں نہیں پتہ کہ وہ کتنی بیمار ہیں۔

طبی ماہرین نے عدالت کو بتایا کہ کہ اگر گیارہ سالہ لڑکی کو بروقت انسولین دے دی جاتی تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔

ڈیل نیومن کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کا خیال تھا کہ دعا بچی پر اثر کر رہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دوا کی بجائے دعا پر انحصار کر کے اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ڈیل نیومن نے اپنی بیٹی کو اپنی مذہبی خود غرضی کا بھینٹ چڑھا دیا۔