تصدیق کیلیے ڈی این اے ٹیسٹ

انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی مشرقی ایشیا کے سب سے مطلوب شدت پسند نور دین محمد کی ہلاکت کی تصدیق کے لیے ان کے رشتہ داروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق نور دین محمد کو پولیس نے سنیچر کو وسطی جاوا کے تیمانگگ ضلع میں ایک مکان کے سترہ گھنٹے تک جاری رہنے والے محاصرے اور مقابلے کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔
اس پولیس مقابلے کے بعد مکان سے ایک لاش بھی منتقل کی گئی ہے تاہم تاحال حکام نے ذرائع ابلاغ کی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ وہ لاش نور دین محمد کی تھی۔
انڈونیشین پولیس کے سربراہ جنرل بمبانگ دنوری کا کہنا ہے کہ’ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ کون ہلاک ہوا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا ہوگا۔ ہم لیبارٹری کے تجزیے کا انتظار کریں گے اس لیے ہم ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ تاہم جنرل بمبانگ نے تصدیق کی کہ اس آپریشن میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کہا تھا کہ آپریشن کے بعد جائے وقوع پر ایمبولینس پہنچی اور بلڈنگ سے بوریوں میں بند دو لاشوں کو باہر لایا گيا جبکہ پولیس کے ترجمان نانن سوئیکرانا کا کہنا تھا کہ پولیس کو یقین کو ہے نورالدین اور اس کے دو تین ساتھی گھر کے اندر تھے تاہم پولیس یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ اس آپریشن میں ہلاک یا زخمی ہوئے یا نہیں۔

ملائیشیا میں پیدا ہونے والے نور دین پر الزام ہے کہ وہ سنہ 2002 میں جزیرہ بالی کے بم دھماکوں کے علاوہ گزشتہ ماہ جکارتہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے۔ اس کے علاوہ ان پر شدت پسند تنظیم جمعیہ اسلامیہ کے لیے کارکن بھرتی کرنے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔
ادھر انڈونیشیائی پولیس کے مطابق ایک الگ واقعے میں دو مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بکاسی علاقے میں پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی کے دوران پانچ مشتبہ شدت پسندوں کوگرفتار بھی کیا گیا ہے اور ان کے پاس سے پانچ سو کلو دھماکہ خیز مادہ ملا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ شدت پسندوں کو اس لیے مار دیا گیا کیونکہ ان کے ہاتھ میں بم تھے جنہیں وہ پھاڑنے والے تھے۔ پولیس ترجمان کے مطابق نور دین محمد کے خلاف اور بکاسی میں کی جانے والی کارروائیاں جمعہ کو تیماننگ کے ایک بازار سے گرفتار کیے جانے والے دو افراد سے حاصل شدہ معلومات کی بناء پر کی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















