برمنگھم میں مظاہرے اورگرفتاریاں

برمنگھم مظاہرے
،تصویر کا کیپشننوجوان لوگو ں کے ہاتھ سے برطانوی جھنڈا یونین فلیگ چھین رہے تھے
وقت اشاعت

پولیس کا کہنا ہے برمنگھم میں دو گروہوں کے مظاہروں کے دوران نقصِ امن کے اندیشے کے تحت تیتیس افراد کو گرفتار کیاگیا ہے۔

مغربی مڈ لینڈ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے فٹبال کے ان شائقین نے منظم کیے تھے جو خود کو انگلش اینڈ ولش ڈیفنس لیگ اینڈ کیژولز یونائیٹڈ اور یونائٹ اگینسٹ فاشزم نامی گروپ کہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کیے جانے والے ان مظاہروں کے دوران دو افراد زخمی ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کی وجہ سے سٹی سینٹر میں کہیں کہیں صورتحال خراب ہونےکی وجہ سے کئی افراد کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران ایک گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا ہے تاہم مزید نقصانات ہو سکتے تھے۔

ایک عینی شاہد گیری نکولس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سنیچر کو سٹی سینٹر میں اپنے اپارٹمنٹ سے یہ مظاہرے دیکھ رہے تھے اور تقریبا ڈھائی گھنٹے تک اس کی وجہ سے باہر جانے سے قاصر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مظاہرے بہت افسوسناک تھا۔میں یہاں تین سال سے رہ رہا ہوں لیکن اس سے قبل یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘

’ان مظاہروں کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ایک سفید فام گروپ نے ’انگلینڈ، انگلینڈ‘ کے نعرے لگانے شروع کیے۔ میں سمجھا کہ یہ فٹ بال کے شائقین ہیں لیکن اتنی دیر میں ایشیائی اور سیاہ فاموں پر مشتمل ایک اور گروپ وہاں پہنچ گیا اور گڑ بڑ شروع ہوگئی۔

’یونین فلیگ کو جلایا گیا، لوگوں کو دھکے دیے گئے حالانکہ ان میں بہت سے ایسے تھے جن کا ان مظاہروں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایسا لگ رہا تھا جیسا یہ سب کسی منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے۔ لوگ گروپوں کی شکل میں گاڑیوں سے اتر رہے تھے اور اس تشدد میں ملوث ہو رہے تھے۔‘

’یہ سب کچھ بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اور میں کبھی دوبارہ یہ سب نہیں دیکھنا چاہوں گا۔‘

ویسٹ مڈلینڈ پولیس ویب سائٹ پر سپرنٹنڈنٹ میٹ وارڈ کا کہنا ہے کہ اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے تھے جس میں تقریبا نوے افراد نے شرکت کی تاہم وہ پرامن رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین کو اپنا حق استعمال کرنے دیا کیونکہ وہ ان اور ان دکانداروں اور خریداروں کے حقوق کو متوازن کرنا چاہتی تھی جو اپنے معمول کے مطابق دن گزارنا چاہتے تھے۔