تائیوان:مٹی میں دبے لوگوں کی تلاش جاری

ہوٹل کی یہ عمارت طوفان کے مقابلے میں تنکا ثابت ہوئی
،تصویر کا کیپشنہوٹل کی یہ عمارت طوفان کے مقابلے میں تنکا ثابت ہوئی
وقت اشاعت

تائیوان میں مٹی کے تودے تلے دبنے والےگاؤں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم خراب موسم کے باعث امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

ادھر تائیوانی حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں شریک ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی سے تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

جنوبی تائیوان میں واقع شیاؤ لن نامی گاؤں کے چھ سو افراد اتوار کو سمندری طوفان موراکوٹ کے باعث مٹی کے تودوں تلے دب گئے تھے۔بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق امدادی ٹیموں نے پچاس افراد کو زندہ بچا لیا ہے جبکہ دیگر ڈیڑھ افراد گاؤں میں ایک اور مقام سے زندہ ملے ہیں۔

پہاڑی علاقے میں واقع شیاؤ لن گاؤں میں پھنسے ہوئے دیہاتیوں کی امداد کے لیے ہیلی کاپٹروں سے کھانے پینے کی اشیاء گرائی جا رہی ہیں۔ چین کی طرف رخ کرنے سے قبل سمندری طوفان کے باعث تائیوان میں دو دن میں اسّی انچ بارش ہوئی جس کی وجہ سے علاقے میں پانچ دہائیوں میں سب سے بدترین سیلاب آیا ہے۔ اس طوفان کی وجہ سہ تائیوان میں اب تک کم از کم اکتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

ادھر چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق سمندی طوفان کے نتیجے میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں سے دو زی جیانگ صوبے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں ہلاک ہوئے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ زی جیانگ کے صوبے کے قصبے پینگزی میں پیش آیا اور موراکوٹ نامی سمندری طوفان نے نتیجے میں ہونے والی شدید بارشیں اس کی وجہ بنیں۔

ابتدائی طور پ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایسی چھ رہائشی عمارتیں مٹی کے تودے تلے دبی ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک میں تقریباً اٹھائیس خاندان رہائش پذیر تھے۔ تاہم بعدازاں حکام نے تصدیق کی ہے کہ مٹی تلے دبنے والی عمارتیں ایک منزلہ مکان تھے جن میں سے بیشتر کو خالی کروا لیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ چین کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان موراکوٹ کے باعث دس لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔