کئی مظاہرین حراست میں ہلاک: کروبی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنانتخابات کے بعد ایران میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے
وقت اشاعت

ایران کے ایک سابق صدارتی امیدوار نے الزام لگایا ہے کہ مظاہروں کے دوران جن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے کیی کو جیل میں ایذا رسانی سے ہلاک کردیا گیا ہے۔

یہ الزام مہدی کروبی کی طرف لگایا گیا ہے جنہوں نے ایک روز پہلے کہا تھا کہ جیل میں مرد وخواتین قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔

ایرانی حکام نے جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔

جمعرات کے روز مہدی کروبی نے کہا کہ کچھ قیدیوں کو ٹارچر کر کے مار دیا گیا ہے۔ مسٹر کروبی کی ویب سائٹ کے مطابق ’بعض نوجوانوں کو الیکشن کے خلاف نعرہ بازی کرنے کی وجہ سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔‘

انہوں نےمطالبہ کیا ہے کہ اس بات کا پتہ کرنے کےلیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان کے ثبوتوں کا سنجیدگی سے جائزہ لےسکے۔

اتوار کے روز جیل میں جنسی زیادتی کا الزام لگایا گیا تھا جس کی بعض غیر سرکاری تنظیموں نے بھی حمایت کی تھی۔ لیکن پارلیمان کے سپیکر علی لاری جانی نے ان الزامات کو ’ بے بنیاد‘ بتا کر مسترد کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ’پارلیمنٹ کی تفتیش کے مطابق کہرازک اور ایون جیل میں قیدیوں کا نہ تو ریپ ہوا اور نا ہی انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا۔‘

جیل میں قیدیوں کو جن حالات میں رکھا گیا ہے اس پر تنازعہ ہے۔ ایران کے اعلی مذہبی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کہرازک جیل قیدیوں کے ’حقوق کی پاسبانی کرنے میں ناکام رہا ہے۔‘

ایران کی پارلیمان اور عدالت دونوں ہی نے انتخابات کے بعد کے پر تشدد مظاہروں پر تفتیش کےلیے کمٹیاں تشکیل دی ہیں تاکہ اس پورے معاملے پر حکومت کے روپے کی جانکاری بھی مل سکے۔

منگل کے روز ایرانی حکام نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ الیکشن کے بعد پر تشدد مظاہروں کے دوران تقریباً چار ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں سے ساڑھے تین ہزار کو پہلے ہی چھوڑ جاچکا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے جس کے بعد زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔

گرفتار کیےگئے مظاہرین کے خلاف مقدمات کی شروعات ہوئی ہے لیکن اپوزیشن رہنما اس پر بھی یہ کہہ کر نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ یہ حکومت کا ایک دکھاوا ہے۔