نظر بندی، اقوامِ متحدہ کو ’تشویش‘

 آنگ سان سو چی
،تصویر کا کیپشنامن نوبل انعام یافتہ آنگ سان سو چی قریباً انیس برس سے اپنےگھر میں نظربند ہیں
وقت اشاعت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے برما میں حزبِ اختلاف کی رہنما آن سان سو چی کو نظر بندی پر اضافے پر تشویش کی اظہار کیا ہے۔

سلامتی کونسل نے اس معاملے پر دو روز تک بحث کرنے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برما میں قید تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

دو روز پہلے برما کی حزبِ اختلاف کی رہنما آن سان سو چی کو نظر بندی کے ضوابط کی دانستہ خلاف ورزی کے مقدمے میں مزید اٹھارہ ماہ نظر بندی کی سزا سنائی گئی تھی۔

آن سان پر الزام ہے کہ انہوں نے تیر کر ان کے گھر تک رسائی پانے والے امریکی شخص جان یتیو کوگھر میں رات گزارنے کی اجازت دی۔ برمی رہنما اس الزام سے انکار کرتی آئی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دو روزہ بحث کے دوران سلامتی کونسل کے بیان کی زبان کو نرم کیا گیا۔ امریکی کی طرف سے لائی گئی قرارداد کے اصل مسودے میں آن سان سوچی کے خلاف عدالتی فیصلے کی مذمت کی گئی تھی اور برما کی فوجی جنتا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آن سان سوچی کو رہا کرے۔

بیان کی زبان میں نرمی لانے کی بنیادی وجہ سلامتی کونسل کا طاقتور مستقل رکن چین تھا جس کے برما کے فوجی حکمرانوں کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق روس اور چین نے ماضی میں بھی برما کے فوجی حکمرانوں کے خلاف جاری کیے جانے والے سخت بیانات کو روکا ہے۔

دوسری طرف یورپی یونین نے پہلے ہی برما پر عائد پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ برما کی فوجی اور حکومتی شخصیات کی طرح آن سان سوچی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کے بیرون ملک اثاثے بھی منجمد کر دیے جائیں گے اور ان کے یورپی یونین کے ملکوں میں داخلے پر پابندی ہو گی۔

منگل کو برما کے دارالحکومت رنگون میں عدالت نے آن سان سو چی کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ لیکن بعد میں برما کے فوجی حکمران نے آن سان سو چی کی تین سال قید بامشقت کی سزا اٹھارہ ماہ نظر بندی میں تبدیل کر دی تھی۔

اس مقدمے کے دوران آنگ سان سو چی رنگون کی انسین جیل میں قید رہیں۔ یہ جیل سیاسی قیدیوں کے مرکز کے طور پر جانی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فیصلے کے موقع پر بھی سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے جیل کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

برما کے فوجی حکمرانوں نے قریباً انیس برس سے امن نوبل انعام یافتہ آن سان سو چی کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور گزشتہ تیرہ برس سے وہ چند مخصوص افراد کے علاوہ کسی سے بھی نہیں مل سکتیں۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی دورۂ برما کے موقع پر آن سان سو چی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی جسے برمی حکمرانوں نے رد کر دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا بھر کے کئی ملکوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔