برما سوچی کے ’مہمان‘ کی رہائی پر آمادہ

 آنگ سان سو چی
،تصویر کا کیپشنامن نوبل انعام یافتہ آنگ سان سو چی قریباً انیس برس سے اپنےگھر میں نظربند ہیں
وقت اشاعت

امریکی سینیٹر جِم ویب نے کہا ہے کہ برما کی فوجی قیادت امریکی شہری جان یتیو کو رہا کرنے پر رضا مند ہو گئی ہے اور وہ اتوار کے روز ان کے ساتھ برما سے روانہ ہو جائیں گے۔

امریکی سینیٹر نے یہ بیان برما میں ملک کے فوجی حکمران تھان شوے سے مذاکرات کے بعد جاری کیا ہے۔

اس سے پہلے مسٹر جم ویب نے حزبِ اختلاف کی رہنما آن سان سو چی سے بھی ملاقات کی جنہیں چند روز پہلے ہی نظر بندی کے ضوابط کی دانستہ خلاف ورزی کے مقدمے میں مزید اٹھارہ ماہ نظر بندی کی سزا سنائی گئی تھی۔

آن سان پر الزام ہے کہ انہوں نے تیر کر ان کے گھر تک رسائی پانے والے امریکی شہری جان یتیو کوگھر میں رات گزارنے کی اجازت دی۔ برمی رہنما اس الزام سے انکار کرتی آئی ہیں۔ خود جان یتیو کو اس الزام میں سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

مسٹر ویب کے دفتر کا کہنا ہے کہ مسٹر یتیو کو سرکاری طور پر اتوار کی صبح ڈی پورٹ کیا جائے گا اور وہ سینیٹر ویب کے ساتھ ملک سے روانہ ہوں گے۔

اپنی ملاقات میں سینیٹر جِم ویب نےحزبِ اختلاف کی رہنما آن سان سو چی کی رہائی کی بھی درخواست کی تھی۔ وہ برما کی فوجی قیادت سے ملاقات کرنے والے سب سے سینئر امریکی عہدے دار ہیں۔

اپنے بیان میں جِم ویب نے اپنی درخواست پر مثبت ردِ عمل ظاہر کرنے پر برما کی فوجی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

منگل کو برما کے دارالحکومت رنگون میں عدالت نے آن سان سو چی کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ لیکن بعد میں برما کے فوجی حکمران نے آن سان سو چی کی تین سال قید بامشقت کی سزا اٹھارہ ماہ نظر بندی میں تبدیل کر دی تھی۔

اس مقدمے کے دوران آنگ سان سو چی رنگون کی انسین جیل میں قید رہیں۔ یہ جیل سیاسی قیدیوں کے مرکز کے طور پر جانی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فیصلے کے موقع پر بھی سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے جیل کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

برما کے فوجی حکمرانوں نے قریباً انیس برس سے امن نوبل انعام یافتہ آن سان سو چی کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے اور گزشتہ تیرہ برس سے وہ چند مخصوص افراد کے علاوہ کسی سے بھی نہیں مل سکتیں۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی دورۂ برما کے موقع پر آن سان سو چی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی جسے برمی حکمرانوں نے رد کر دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا بھر کے کئی ملکوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔