امریکی فوجی: جنگیں، ذہنی دباؤ، خودکشی

گزشتہ پانچ سال کے دوران جنگی صورتحال سے بڑھتے ذہنی دباؤ کے باعث امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔
اس رجحان میں اضافے کے باعث حکام نے فوجیوں کی ذہنی صحت پر تحقیق سے متعلق 50 ملین ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ تاریخ کا اب تک کیا جانے والا سب سے بڑا سروے ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ اس سروے کی مدد سے ان فوجیوں کی تشخیص ہوسکے گی جن میں مستقبل میں خودکشی کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے باعث وہاں فوجیوں کی بار بار تعیناتی ان میں شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ فوجی خودکشی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب تک یہ بات مکمل طور پر یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ گزشتہ برس 143 فوجیوں اور فوج کے دیگر 113 عملے کی خودکشیوں کا سبب آیا یہی ذہنی دباؤ ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر رابرٹ ہینسن اس 50 ملین ڈالر کی لاگت والے منصوبے کی سربراہی کررہے ہیں تاکہ فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافے کی تمام وجوہات جانی جاسکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سال کے دوران پانچ لاکھ فوجیوں سے ذاتی نوعیت کے سوال کیے جائیں گے جسے ان کے نفسیاتی تجزیے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ اس سروے کی تحقیقات ہر تین ماہ کے عرصے میں پیش کی جائیں گی۔


















