ایشیا:’خوراک کی طلب 2050 تک دگنی‘

پانی
،تصویر کا کیپشنایشیائی ممالک کو کروڑوں ڈالر آبپاسی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرف کرنا ہوں گے: رپورٹ
وقت اشاعت

سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ایشیائی ممالک نے اپنے آبی نظام کو بہتر نہ کیا تو ان ممالک کو قحط اور سماجی بدنظمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ تحقیق اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک اور زراعت اور انٹرنیشنل واٹر مینجمینٹ انسٹیٹیوٹ نے مشترکہ طور پر کی ہے اور اس کی رپورٹ سویڈن میں ماہرینِ آب کی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

اس رپورٹ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگلے چالیس سال میں ایشیائی ممالک کی آبادی میں ڈیڑھ بلین افراد کا اضافہ ہو گا اور ایشیائی ممالک کو ایک چوتھائی سے زائد چاول اور دیگر اہم خوراک برآمد کرنی ہوگی۔

انٹرنیشنل واٹر مینجمینٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل کولن چارٹرز کا کہنا ہے ’ایشیائی ممالک کی خوراک کی طلب سنہ دو ہزار پچاس تک دگنی ہونے کی توقع ہے۔ اس خوراک کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خوراک کی درآمد کئی حکومتوں پر معاشی دباؤ ڈالے گی جو کہ سیاسی طور پر مفید نہ ہو گا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی اور مشرقی ایشیائی ممالک کو اپنی کاشت کو بہتر بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے صرف کرنا ہوں گے۔

کولن چارٹرز کا کہنا ہے ’ایشیائی ممالک کو اس قحط سے بچنے کے لیے اپنا آبپاشی کا نظام بہتر کرنا ہو گا کیونکہ یہ علاقہ دنیا کا قابل کاشت علاقے کے ستر فیصد کے برابر ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ نیا کاشت کے قابل علاقہ کافی کم ہے اس لیے پہلے سے کاشت شدہ علاقے کی آبپاشی کے نظام کو بہتر بنایا جائے جو کہ ستر اور اسّی کی دہائیوں کے ہیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبادی کی اضافے کے ساتھ ساتھ غیر مستحکم عالمی منڈی کی وجہ سے خوراک کی قیمت میں اضافے ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق لاکھوں کسان اپنی زمین خود کاشت کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جتنا بھی چاہیں پانی استعمال کریں۔ اس استعمال کی وجہ سے آبی ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کے حکومتوں کو آبی ذخائر استعمال کرنے کے لیے ایک نیا نظام مرتب کرنا ہو گا۔

ایشیائی حکومتوں کو نجی شعبوں کے ساتھ مل کر جدید اور بہتر پانی کے استعمال کا نظام بنانا ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق ’آبی ذخائر کے استعمال کو بہتر نہ کیا گیا تو جنوبی ایشیا کو کاشت کے لیے 57 فیصد اور مشرقی ایشیا کو 70 فیصد مزید پانی درکار ہو گا۔‘