یہودی بستیوں میں آباد کاری ’رک‘گئی

وقت اشاعت

ائیل کی حکومت نے یہودی بستیوں میں تعمیرات کے لیے اجازت نامے جاری کرنے بند کر دیئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر ہاوسنگ ایرئیل ایٹس نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل کی حکومت اوباما انتظامیہ سے کچھ سمجھوتے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ اوباما انتظامیہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

البتہ اسرائیلی وزیر نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ یہودی بیستوں میں مزید تعمیرات کے لیے اجازت نامے نہ جاری کرنے کا فیصلہ امریکی دباؤ میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہودی بستیوں میں تعمیرات پر پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ تعمیرات کے لیے درخواست کی منظوری کےلیے انتظار کا وقت ہے جس کی وجہ سے اجازت نامے جاری نہیں ہو رہے۔

ادھر صدر اوباما نے اسرائیل کے فیصلے پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات کو شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکی حکومت اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ یہودی بستیوں کی توسیع فوراً بند کردے ۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ وہ یہودی بستیوں میں بڑھوتی کے قدرتی عمل کو روکنے کے خلاف ہے ۔

یہودیوں بستیوں میں توسیع کو روکنے سے اسرائیل کی حکومت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حکومت اتحاد میں شامل انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں حکومت سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں جس سے بینجمن نیتن یاہو کی حکومت گر سکتی ہے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ ایک سال کے لیےغرب اردن میں یہودی آباد کاری بند کر دے تاکہ عرب ممالک کو یہودی ریاست سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے کہا جاسکے۔

اخبار نے مزید کہا ہے کہ غرب اردن میں ایک سال کے لیے آبادکاری منجمد کرنے کی یہ تجویز مشرق وسطی کے لیے براک اوباما کے خصوصی نمائندہ جارج مچل نے وزیراعظم نیتن یاہو کوگزشتہ ہفتے یروشلم میں ملاقات کے دوران دی۔ جبکہ اخبار کے مطابق اسرائیل چھ ماہ کے لیے اس منصوبے کو منجمد کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کی ملاقات کے بعد نیتن یاہو اور جارج مچل نے کہا تھا کہ اہم معاملات پر ان کے مابین بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

ایہود براک نے اسرائیلی ریڈیو کومزید بتایا کہ ’یہ کوششیں اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کی رو سے ایک جامعہ علاقائی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مئی میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا تھا کہ صدر اوباما چاہتے ہیں کہ اسرائیل بلا استثنیٰ غرب اردن میں ان آبادیوں کی تعمیر روک دے۔

تاہم امریکہ کے اس مطالبے کے جواب میں اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ غرب اردن کی کچھ بستیوں کی تعمیر کا کام جاری رہے گا۔