لاکربی: ملزم کی رہائی قریب

عبدالباسط علی محمد المگراہی
،تصویر کا کیپشنعبدالباسط علی محمد المگراہی مثانے کے کینسر کے مریض ہیں
وقت اشاعت

سکاٹ لینڈ میں ہائی کورٹ نے لیبیائی باشندے عبد الباسط المگراہی کی اس اپیل کو مان لیا ہے جس میں انہوں نے اپنی سزا کےلیے دوسری اپیل کو واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

عدالتی فیصلے سے عبد الباسط المگراہی کی سکاٹ لینڈ کی جیل سے رہائی یا لیبیا منتقلی قریب پہنچ گئی ہے۔

عبدالباسط المگراہی لاکربی میں سکاٹ لینڈ کی جیل میں سزا بھگت رہے ہیں۔المگراہی مثانے کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کے زندہ بچ جانے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

عبد الباسط المگراہی کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے درخواست دائر دی ہے کہ یا تو ان کو رہا کر دیا جائے یا پھر انہیں اپنی زندگی کے باقی دن لیبیا کی جیل میں گزارنے کی اجازت دی جائے۔ المگراہی آخری وقت اپنی سرزمین پر گزارناچاہتے ہیں۔

سکاٹ لینڈ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ المگراہی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرنے یا لیبیا منتقل کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ادھر امریکہ نے عبد الباسط المگراہی کی ممکنہ رہائی یا لیبیا منتقلی کو روکوانے کی کوشش شروع کر دی ہیں۔امریکہ کے سات سینٹروں نے سکاٹ لینڈ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عبدالباسط المگراہی کو رہا نہ کرے۔

امریکی سینیٹرز نے جن میں ایڈورڈ کینیڈی اور جان کیری بھی شامل ہیں لاکربی کے ملزم المگراہی کی جلد رہائی کے فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

سینیٹرز کی طرف سے سکاٹ لینڈ کے جسٹس سیکرٹری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’لاکربی کا واقعہ عالمی دہشت گردی کا خوفناک واقعہ تھا اور گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے قبل کسی واقعے میں امریکی شہریوں کا اتنا جانی نقصان نہیں ہوا‘۔

خط میں مزید کہا گیا ہے ’ہم جانتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت انصاف کا ساتھ دینے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری اور امریکہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ المگراہی کو اپنی باقی سزا سکاٹ لینڈ کے جیل میں ہی کاٹنے دی جائے۔‘

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی سکاٹ لینڈ پر زور دیا تھا کہ المگراہی کو رہا نہ کیا جائے۔

عبدالباسط علی محمد المگراہی مثانے کے کینسر کے مریض ہیں۔عبد الباسط علی محمد المگراہی نے انیس سو اٹھاسی میں پین ایم کے مسافر جہاز کو سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے جرم میں ستائیس برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس واقع میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

..