’لاکربی بمبار‘ کا طرابلس میں استقبال

عبدالباسط علی محمد المگراہی
،تصویر کا کیپشنعبدالباسط علی محمد المگراہی مثانے کے کینسر کے مریض ہیں
وقت اشاعت

لاکربی بمبار عبدالباسط علی المگراہی سکاٹ لینڈ کی جیل سے رہائی کے بعد لیبیا واپس پہنچ گئے ہیں جہاں سینکڑوں لوگ ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔

عبدالباسط علی محمد المگراہی کو انیس سو اٹھاسی میں پین ایم کے مسافر جہاز کو سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے جرم میں ستائیس برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس واقعے میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیبیا کے صدر معمر قذافی کے بیٹے نے کہا ہے کہ ایسے شواہد سامنے آئے جن سے المگراہی کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے۔ طیارے میں ہلاک ہونے والے کچھ امریکیوں کے عزیزوں نے المگراہی کی لیبیا واپسی پر ہوائی اڈے پر ہونے والے جشن پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل سکاٹ لینڈ کی حکومت نے لاکربی طیارے کی تباہی کے مجرم کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا تھا۔ المگراہی مثانے کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کے زندہ بچنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا امریکہ کے صدر براک اوباما نے المگراہی کی رہائی کو غلطی قرار دیا ہے۔ طیارہ میں ہلاک ہونے والے کچھ لوگوں کے رشتہ داروں نے ان کی رہائی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت نے سکاٹ لینڈ کی حکومت کو اپنہ تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے لیبیا کی حکومت سے بھی کہا تھا کہ المگراہی کا ہیرو کے طور استقبال نہیں کیا جانا چاہیے اور انہیں نظربندی میں رکھا جائے۔

سکاٹ لینڈ کی سیکریٹری برائے انصاف کینی ماکاسکل نے بتایا کہ عبدالباسط المگراہی کو لیبیا جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بی بی سی کی معلومات کے مطابق عبدالباسط المگراہی خصوصی طیارے سے گلاسگو سے طرابلس کے لیے برطانوی معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بجے روانہ ہوئے تھے۔

سکاٹ لینڈ میں ہائی کورٹ نے لیبیائی باشندے عبد الباسط المگراہی کی اس اپیل کو مان لیا تھی جس میں انہوں نے اپنی سزا کےلیے دوسری اپیل کو واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

امریکہ نے عبد الباسط المگراہی کی ممکنہ رہائی یا لیبیا منتقلی کو رکوانے کی کوششیں شروع کی تھیں۔ امریکہ کے سات سینٹروں نے سکاٹ لینڈ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ عبدالباسط المگراہی کو رہا نہ کرے۔ امریکی سینیٹروں نے جن میں ایڈورڈ کینیڈی اور جان کیری بھی شامل ہیں لاکربی کے ملزم المگراہی کی جلد رہائی کے فیصلے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

سینیٹروں کی طرف سے سکاٹ لینڈ کے جسٹس سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ’لاکربی کا واقعہ عالمی دہشت گردی کا خوفناک واقعہ تھا اور گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے قبل کسی واقعے میں امریکی شہریوں کا اتنا جانی نقصان نہیں ہوا‘۔

خط میں مزید کہا گیا ہے ’ہم جانتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت انصاف کا ساتھ دینے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری اور امریکہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ المگراہی کو اپنی باقی سزا سکاٹ لینڈ کے جیل میں ہی کاٹنے دی جائے‘۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی سکاٹ لینڈ پر زور دیا تھا کہ المگراہی کو رہا نہ کیا جائے۔