اسرائیل: سویڈن کے خلاف مشتعل

سویڈن کے اخبار میں اس الزام کی اشاعت کے بعد کہ اسرائیلی فوجی فلسطینیوں کو ان کے اعضا بیچنے کے لیے قتل کرتے ہیں، اسرائیل سویڈن کے خلاف باقاعدہ شکایت کرنے والا ہے۔
یہ الزام ایک مضمون میں لگایا گیا ہے جو سویڈن کے سنسنی خیز خبروں کے لیے مشہور ’افٹونبلیڈٹ‘ نامی اخبار میں اسی ہفتے شائع ہوا ہے۔
اسرائیل میں سویڈن کے سفیر نے مضمون میں اس الزام کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’وحشتناک اور ناگوار‘ قرار دیا ہے۔
اس الزام کے بارے میں اسرائیل کے وزیر خارجہ ایوگڈور لائبرمین شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس نے دوسری جنگِ عظیم میں سویڈن کے اس کردار کی یاد تازہ کر دی ہے، جب اس نے جنگ میں مداخلت نہیں کی تھی‘۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک تھا کہ جب اسرائیلیوں کا خون بہنے کی بات تھی تو سویڈن کی وزارتِ خارجہ نے کوئی مداخلت نہیں کی۔
جمعرات کی شام پوسٹ کیے جانے والے ایک بلاگ میں سویڈن کے وزیرِ خارجہ کارل بلڈٹ نے کہا ہے کہ وہ اس مضمون کی مذمت نہیں کریں گے اور یہ کہ اظہار کی آزادی سویڈن کے آئین کا حصہ ہے۔
مسٹر بلڈٹ نے مزید لکھا ہے کہ ’سامیت دشمنی‘ یا یہودیوں کی یہودی ہونے کی بنا پر مخالفت واحد معاملہ ہے جس پر سویڈن کی پارلیمنٹ میں مکمل اتفاق ہے۔
سویڈن میں سب زیادہ فروخت ہونے والے ٹیبولائیڈ اخبار ’افٹونبلیڈٹ‘ میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی فلسطینی نوجوانوں کو پکڑتے ہیں اور چند بعد ان کی مسخ لاشیں لوٹا دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اخبار کا کہنا ہے کہ اس نوع کے واقعات کس سلسلہ انیس سو بانوے تک جاتا ہے۔
اسرائیلی اخبارات کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ اپنے ردِ عمل کے اظہار پر غور کر رہی ہے جس میں سویڈن کے وزیرِ خارجہ کے معطلی تک شامل ہیں۔
سویڈن کے وزیرِ خارجہ دس روز بعد اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔






















