’لاکربی بمبار کی رہائی سودا نہیں‘

برطانیہ نے لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی کے بیٹے کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ لاکر بی طیارہ کیس کے مجرم عبدالباسط المگراہی کی رہائی تجارتی معاہدوں کے تحت ہوئی ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ المگراہی کو جنہیں سن انیس سو اٹھاسی میں ایک امریکی طیارہ تباہ کرنے کا مجرم قرا دیا چکا ہے عدالتی تقاضوں کے تحت رہا کیا گیا ہے۔
لیبیا کے ٹیلی ویژن پر کرنل قذافی کو المگراہی سے گلے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کی یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکہ اور برطانیہ میں پہلے ہی المگراہی کی لیبیا کی واپسی پر ان کے پر جوش استقبال کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے۔
دریں اثنا المگراہی نے برطانوی روزنامے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ثبوت پیش کریں گے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے لیبیا میں المگراہی کے استقبال کو انتہائی قابل اعتراض قرار دیا تھا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ لیبیا کے کردار کو نئے سرے سے پرکھا جائے گا۔
امریکی اور برطانوی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے لیبیا کو اس معاملے کی حساس نوعیت سے آگاہ کر دیا تھا۔
امریکی ایئر لائن پین ایم کی فلائٹ ایک سو تین کو سکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی کی فضائی حدود میں تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں دو سو ستر لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے کہا ہے کہ وہ مل کر المگراہی کی رہائی اور اس کے بعد لیبیا کے رویے پر احتجاج کے لیے لائحہ عمل تیار کریں گے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ لواحقین لیبیا کے کرنل معمر قذافی کی نیویارک آمد کے موقع پر احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















