’لاکربی بمبار‘ کی رہائی کا دفاع

سکاٹ لینڈ کی حکومت نےبڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود لاکربی طیارہ کیس کے مجرم کو رہا کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ نے سکاٹ لینڈ کی حکومت کو لاکربی طیارہ کیس کے مجرم کو رہا کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میولر نے اکیس اگست کو ارسال کیے گئے ایک خط میں کہا کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت کا فیصلہ ’عدل کا مذاق‘ ہے اور ’دنیا بھر میں دہشت گردوں کے لیے تقویت کا باعث۔‘
سکاٹ لینڈ کے جسٹس سیکرٹری کینی میک آسکل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ سکاٹ لینڈ کے باقاعدہ ضوابط، شفاف شواہد اور پیرول اور جیل گورنر کی سفارشات کے تحت کیا گیا ہے‘۔
عبدالباسط المگراہی کا لیبیا پہنچنے پر ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ سکاٹ لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے فیصلہ امریکہ اور برطانیہ میں وسیع پیمانے پر مشاورت کے بعد کیا اور وہ اس پر قائم ہیں۔
المگراہی انیس سو اٹھاسی میں تباہ ہونے والے امریکی طیارے کے مقدمے میں واحد شخص ہیں جنہیں سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں سن دو ہزار ایک میں دو سو ستر لوگوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
سکاٹ لینڈ کی حکومت نے جمعرات کو ستاون سالہ المگراہی کو جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک واپس جانے دیا ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے سکاٹ لینڈ جسٹس سیکرٹری کو خط میں لکھا کہ ان کا فعل ناقابل فہم اور نظام عدل کے لیے نقصاندہ ہے۔ ’یقیناً آپ کا فعل قانون کی بالادستی کی سوچ کا مذاق اڑاتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رابرٹ میولر نے اپنے خط میں لکھا کہ سکاٹ لینڈ کا فیصلہ لاکربی میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے جذبات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
میولر اس سے پہلے محکمہ انصاف میں وکیل تھے اور انیس سو اٹھاسی میں تباہ ہونے والے طیارے کے مقدمے میں استغاثہ کا حصہ تھے۔ سکاٹ لینڈ کے حکام کے نام لکھا گیا ان کا خط لاکربی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو بھی ارسال کیا جا رہا ہے۔
سکاٹ لینڈ کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ان کے وزیر نے درست فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ واضح شواہد، قانون کے تقاضوں اور پیرول بورڈ اور جیل کے گورنر کی سفارشات کی روشنی میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی امریکہ کے نظام کا حصہ نہیں لیکن یہ سکاٹ لینڈ کے نظام میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وزیر نے جتنی مشاورت ہو سکتی تھی اتنی کی، انہوں نے امریکی خاندانوں، امریکی اٹارنی جنرل، امریکی وزیر خارجہ کلنٹن اور کئی دیگر افراد سے بات کی تھی۔
سکاٹ لینڈ کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جناب میولر کو معلوم ہونا چاہیے کے اگر بہت سے خاندانوں نے رہائی کی مخالفت کی ہے تو بہت سوں نے اس کی حمایت بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے اشارہ دیا تھا کہ وہ قیدی کی منتقلی اور ہمدردی کی بنیاد پر ان کی رہائی کے حق میں نہیں لیکن انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کو منتقلی سے بہت بہتر سمجھتے ہیں اور جناب میولر کو یہ معلوم ہونا چاہیے۔
دریں اثناء المگراہی کی رہائی کے بعد برطانوی حکومت بھی تنقید کی زد میں آ گئی ہے کیونکہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان کی رہائی میں اس کا بھی کردار ہے۔ معمر قذافی کے بیٹے نے کہا کہ المگراہی کی رہائی برطانیہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے ساتھ مشروط کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت عدل کے معاملے میں تو لندن سے بالا بالا فیصلے کر سکتی ہے لیکن خارجہ امور میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ برطانیہ کے وزیر تجارت پیٹر مینڈلسن نے برطانیہ کے المگراہی کی رہائی میں کسی کردار اور سودے بازی کی پر زور تردید کی ہے۔






















