سی آئی اے تشدد: الزامات کی نئی تحقیقات

گوانتانامو بے
،تصویر کا کیپشنتفتیش کے لیے ’واٹر بورڈنگ‘ کا طریقہ گوانتانامو بے کے قیدیوں پر بارہا آزمایا جاتا رہا ہے
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
  • وقت اشاعت

امریکہ کے محکمہ انصاف نے خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کی جانب سے مشتبہ دہشتگردوں کے خلاف تفتیش کے دوران تشدد کے واقعات کی ازسرنو تحقیقات کرانے کی سفارش کی ہے۔

یہ سفارش ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب سی آئی اے کے متنازع تفتیشی طریقوں پر چند برس قبل جاری کی جانی والی رپورٹ کے وہ سنسر شدہ حصے ظاہر کیے جا رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کے درجنوں مواقع پر سی آئی اے کے اہلکاروں یا پھر ان کے ٹھیکیداروں نے مشبتہ شدت پسندوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

دہشت گردی کے خلاف سابق امریکی صدر جارج بش کی جنگ کے دوران سی آئی اے کی جانب سے مشتبہ شدت پسندوں سے تفتیش کے دوران ذہنی اور جسمانی تشدد کے استعمال کی خبروں کے بعد، جارج بش کی انتظامیہ نے سی آئی اے کے انسپکٹر جنرل کے ذریعے پانچ برس قبل ان الزامات کی تفتیش کرائی تھی۔

انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں تفتیش کے دورران ملزمان پر تشدد اور ان کو ہراساں کیے جانے کے کئی واقعات کا تذکرہ تھا جس کی وجہ سے بش انتظامیہ نے رپورٹ کے اہم ترین حصوں کو کلاسی فائیڈ یعنی خفیہ قرار دے دیا، جس کی وجہ سے یہ رپورٹ بے معنی ہوکر رہ گئی تھی۔

تشدد
،تصویر کا کیپشنسی آئی اے کے اہلکاروں یا پھر ان کے ٹھیکیداروں نے مشبتہ شدت پسندوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

لیکن امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاص طور پر سول لبرٹیز یونین ملزمان پر تشدد کے معاملے کے خلاف آواز بلند کرتی اور حکومت کے خلاف عدالتی لڑائی لڑتی رہی ہے۔

پچھلے دنوں ایک عدالت نے بالآخر حکم دیا کہ سی آئی کے تشدد پر رپورٹ کے ان خفیہ حصوں کو منظر عام پر لایا جائے جنہیں بش انتظامیہ نے کلاسی فائیڈ کر دیا تھا۔ رپورٹ کے یہ حصے بہت جلد منظر عام پر آنے والے ہیں؛۔

لیکن امریکی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ میں لکھے گئے سی آئی اے اور اس کے ٹھیکیداروں کے تشدد کے کئی واقعات پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔ ایک واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران تفتیشی کمرے میں سوراخ کرنے والی ڈرل مشین لائی گئی اور ملزم کو تاثر دیا گیا کہ اس نے سچ نہیں بتایا تو اس کے جسم پر ڈرل مشین چلائی جا سکتی ہے۔ جب کہ ایک اور واقعہ میں تفتیش کے دوران برابر والے کمرے میں گولی چلا کر ملزم کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ برابر والے کمرے میں تفتیش کے دوران ملزم کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

ملزمان پر تفتتیش کے دوران واٹربورڈنگ کا طریقہ تو کئی قیدیوں پر استعمال کیا گیا جس میں ملزم پر مسلسل پانی گرایا جاتا ہے اور اس کو ڈبو کر ہلاک کردینے کا تاثر دیا جاتا ہے۔

ایک اور بدنام طریقے کا استعمال خاص طور پر گونتانامو بے کے قید خانے میں کیا جاتا تھا جس میں قیدی کو بھاری ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں ایک سیل سے دوسرے میں اور پھر دوسرے سے تیسرے میں دن بھر میں درجنوں مرتبہ منتقل کیا جاتا تھا اور اس طریقے کو نام دیا گیا ’فریکئینٹ فلائیر پروگرام۔’

تشدد
،تصویر کا کیپشنقیدی کو بھاری ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں مسلسل دن بھر ایک سیل سے دوسرے منتقل کیا جاتا۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کی اخلاقیات کی کمیٹی نے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کو سفارش کی ہے کہ درجن بھر ملزمان سے کی جانے والی تفتیش کے دوران تشدد کے واقعات کی ازسرنو تحقیق کرائی جائے۔ یہ وہ واقعات تھے جن کا علم صدر بش کو بھی تھا لیکن انہوں نے کیس بند کردیے تھے۔

ان واقعات پر اگر ازسر نو تحقیقات ہوتی ہیں تو سی آئی اے کے اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کے راستے کھل جائیں گے۔

دریں اثنا صدر براک اوباما نے دہشت گردی کے اہم ملزمان سے تفتیش کرنے کے لیے ایک نیا یونٹ تشکیل دینے کی منظوری دی ہے جس میں مختلف سکیورٹی کے مختلف اداروں کے انتہائی پیشہ ور تفتیشکار شامل ہوں گے اور تشدد جیسے غیر قانونی طریقوں پر پابندی ہوگی۔