مشرقِ وسطیٰ: براؤن مزید پُرامید

برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نتنیاہو سے ملاقات کے بعد وہ مشرقِ وسطیٰ کے حل کے بارے میں زیادہ پُر امید ہو گئے ہیں۔منگل کو ڈاؤننگ سٹریٹ میں اپنے اسرائیلی ہم منصب سے مذاکرات کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ برطانیہ اسرائیل کا حقیقی دوست ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم یورپ کے چار روزہ دورے پر پیر کو لندن پہنچے تھے۔
گورڈن براؤن نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے حصول کی کوششوں میں رویے حقیقت پسندانہ ہونے بہت ضروری ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک غیر فوجی فلسطینی ریاست کی ضرورت ہے۔
برطانیہ نے بار بار اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں یہودی خیمہ بستیوں کی تعمیر منجمد کر دے کیونکہ یہ خطے میں امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ کا باعث ہے۔
ڈاؤننگ سٹریٹ میں ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا وہ اسرائیلی حکومت کے بارے میں ایرانی حکومت کے حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ اور اسرائیل دونوں کو ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک سے خدشات ہیں۔اسرائیلی وزیرِ اعظم اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی جارج مچل اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے بھی ملاقات کریں گے۔
اسرائیل پر امریکی دباؤ بھی ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر روکی جائے۔
امریکی صدر براک اوباما موسمِ خزاں میں مشرقِ وسطیٰ کے منصوبے کی نقاب کشائی کریں گے جس پر آج کل کام ہو رہا ہے۔
ادھر فلسطینی وزیرِ اعظم سلام فائد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ رہنما جو اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ملاقاتیں کر رہے ہیں انہیں نتنیاہو کو بتانا چاہیے کہ وہ کسی شک میں نہ رہیں کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر روکنی ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے مشرقِ وسطی کے امور کے ایڈیٹر جرمی بوئن کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں بعض ایسی اطلاعات ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ شاید عرب ریاستوں سے کچھ مراعات کے عوض اسرائیل یہودی خیمہ بستیوں کی تعمیر منجمد کر دے۔






















