امریکہ: بجٹ خسارہ 1.6 ٹریلیئن

امریکہ میں عام تاثر یہ ہے کہ ملکی معیشت اس سال کے آخر تک بہتری کی طرف مائل ہو جائے گی۔
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں عام تاثر یہ ہے کہ ملکی معیشت اس سال کے آخر تک بہتری کی طرف مائل ہو جائے گی۔
وقت اشاعت

امریکہ میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس دونوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سال بجٹ کا خسارہ تقریباً ایک اعشاریہ چھ ٹریلیئن ڈالر تک پہنچ جائے گا جسکی پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔

بجٹ میں خسارے کی بنیادی وجوہات میں عالمی کساد بازاری کے نتیجے میں صدر براک اوباما کی طرف سے سات سو ستاسی بلین ڈالر کا معاشی حالات کو سنبھالنے کا پیکج اور ٹیسکوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی ہے۔ گزشتہ برس بجٹ کا خسارہ چار سو پچپن بلین ڈالر تھا

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کا امکان موجود ہے کہ خسارہ اور بڑھے اور تخمینوں کے مطابق سنہ دو ہزار دس سے سنہ دو ہزار انیس کے درمیان یہ خسارہ نو ٹریلیئن ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

تاہم امریکہ میں عام تاثر یہ ہے کہ ملکی معیشت اس سال کے آخر تک بہتری کی طرف مائل ہو جائے گی۔

وائٹ ہاؤس نے اس امکان کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس برس بےروزگاری کی شرح دس فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے تاہم اگلے سال یہ شرح کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں بے روزگاری کی شرح نو اعشاریہ چار فیصد تھی۔

صدر اوباما کی ایک اقتصادی مشیر کا کہنا ہے کہ عالمی کساد بازاری اس سے بدتر ثابت ہوئی جس کی ابتدا میں پیشگوئی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اندازہ ہے کہ اب معشیت دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک سکڑے گی جو اس سال کے اوائل کی پیش گوئی کے برعکس دو گنا زیادہ ہے۔

خیال ہے کہ شرح نمو اگلے برس دو فیصد تک ہوگی جبکہ اس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی تھی کہ یہ تین اعشاریہ دو تک رہے گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کہ جب کساد بازاری ختم ہوگی تو ٹیسکوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔