سری لنکا: نئی وڈیو، تحقیقات کا مطالبہ

سری لنکا میں ایک وڈیو کے سامنے آنے کے بعد جس میں فوجی ’ماورائے عدالت قتل‘ کرتے نظر آتے ہیں، پھر سے مطالبہ ہوا ہے کہ بین الاقوامی سطح پرحقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔
یہ وڈیو مبینہ طور پر جنوری کے مہینے میں تیار کیا گیا جب حکومتی فوج تام باغیوں کے ساتھ جنگ کے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔
اس میں نظر آتا ہے کہ فوجی کے لباس میں ملبوس ایک شخص ایک برہنہ شخص کو سر میں گولی مار رہا ہے۔ زمین پر آٹھ لاشیں اور بھی پڑی نہیں نظر آتی ہیں۔
سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وڈیو جعلی ہے۔
یہ تصدیق کرنا کہ آیا وڈیو اصلی یہ یا نقلی نا ممکن ہے۔وڈیو دیکھ کر یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ یہ کس مقام پر تیار کی گئی ہے۔
یہ وڈیو بی بی سی اور دوسری میڈیا تنظیموں کو اس گروپ کی طرف سے فراہم کی گئی ہے جسے سری لنکا میں جموریت کے صحافی کہا جاتا ہے۔ یہ گروپ یورپ میں ہے اور اس میں سنہالی، تامل وہ صحافی ہیں جو سری لنکا سے بھاگ گئے تھے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ وڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ ’جنگ میں حکومتی فوجی کا اصل رویہ کیا تھا۔‘
حکومت نے مئی میں کئی ماہ کی شدید لڑائی کے بعد تامل باغیوں پر فتح حاصل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔


















