’باغیوں‘ کے لیے انصاف کا مطالبہ

بنگلہ دیش میں بغاوت(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنبغاوت میں درجنوں فوجی ہلاک ہوئے
وقت اشاعت

بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بغاوت کے مقدمے میں ملوث سرحدی محافظوں کے منصفانہ ٹرائیل کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈھاکہ میں فروری میں بنگلہ دیش رائفلز کے صدر دفتر میں دو روز جاری رہنے والی بغاوت کے بعد تین ہزار اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس واقعے میں مبینہ طور پر بنگلہ دیش رائفلز کے ہاتھوں درجنوں فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ملک کے سپریم کورٹ میں بحث جاری ہے کہ بارڈر گارڈز کے ان اہلکاروں کے خلاف فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے یا دیوانی قانون کے تحت۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کوخدشہ ہے کہ فوجی عدالتوں سے ان لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا۔

بغاوت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہوں اور نوکری میں ترقی کی صورتحال سے خوش نہیں تھے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ بغاوت کا مقصد ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈمٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں عام طور پر کسی کو ان سرحدی محافظوں سے ہمدردی نہیں لیکن ان کے رشتہ دار اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حراست میں ان کی حالت کے بارے میں بہت فکرمند ہیں۔

بغاوت کے بعد سے اطلاعات کے مطابق چالیس بارڈر گارڈز ہلاک ہو چکے ہیں اور تشدد کا الزام بھی لگتا رہتا ہے۔

حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اب تک کی ہلاکتوں کی وجوہات میں خودکشی اور دل کا دورہ یا کچھ اور قدرتی وجوہات شامل ہیں۔