’طلاق کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘

لاریو
،تصویر کا کیپشنسلویو برلسکونی اپنی بیوی سے انیس سال بڑے ہیں
وقت اشاعت

ایک نئی کتاب میں اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی ناراض بیوی نے اپنے شوہر کی حرکتوں کے بارے بتایا ہے۔ اٹلی کے ایک اخبار نے اس کتاب کے اقتباسات چھاپنے شروع کر دیے ہیں۔

کتاب کا نام ہے ’دی ویرونیکا ٹرینڈ‘ اور اس میں سلویو برلسکونی سے متعلق سکینڈلز پر ان کی اہلیہ ویرونیکا لاریو کا موقف پیش کیا گیا ہے۔ مِز لاریو برلسکونی سے علیحدگی اختیار کر چکی ہیں اور ان سے طلاق لے رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر پر ایک نوجوان لڑکی سے روابط رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

اب تک اطالوی میڈیا نے وزیر اعظم کے سکینڈلز اور جنسی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اٹلی میں زیادہ تر اخبارات، ٹی وی چینلز اور آن لائن اخبارات برلسکونی کے ہیں۔

صحافی ماریہ لاتیلا نے یہ کتاب لکھی ہے جو کہ مِز لاریو کی قریبی دوست ہیں۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ مز لاریو کے لیے ان کے بہتتر سالہ شوہر نے اس وقت حد پار کر لی جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ سلویو برلسکونی نے نیپلز میں ایک ابھرتی ہوئی ماڈل کی اٹھارویں سالگرہ میں شرکت کی تھی۔ تریپن سالہ مز لاریو کے بقول ’یہ ایک اور جھوٹ تھا۔ میرے پاس اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا اور اس حد تک اس نے ہی مجھے پہنچایا۔‘

مِز لاریو کا تاہم کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا ساتھ دیں گی اگر وہ اپنی جنسی خواہشات پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کتاب کی لکھاری صحافی ماریہ لاتیلا مِز لاریو کو گزشتہ اٹھارہ سال سے جانتی ہیں اور وہ اس کتاب میں مز لاریو کو ایک سمجھدار اور خاندانی شخص بیان کرتی ہیں۔

ماریہ لاتیلا نے بی بی سی کو بتایا کہ برلسکونی اور لاریو نے چند سال قبل اس بات پر اتفاق کر چکے تھے کہ دونوں اپنی اپنی زندگیاں گزاریں گے لیکن ایک دوسرے سے وفادار رہیں گے۔ تاہم ان نئے الزامات کی وجہ سے لاریو کو بہت غم وغصہ آیا۔ انہوں نے کہا ’برلسکونی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔‘