امریکہ پر مقدمہ کروں گا: قیدی

گوانتانامو سے رہا ہونے والے سب سے کم عمر قیدی محمد جواد کے وکیل کا کہنا ہے وہ امریکی حکومت کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کریں گے۔
محمد جواد کو اسی ہفتے گوانتانامو سے رہا کیا گیا تھا اور وہ پیر کے روز کابل میں اپنے گھر پہنچے تھے۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار دو میں جب انہیں حراست میں لیا گیا تھا تو وہ صرف بارہ سال کے تھے۔
تاہم پینٹاگون اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ گرفتاری کے وقت ان کے عمر بارہ سال تھی۔ امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے وقت ان کی عمر سترہ سال تھی۔
محمد جواد پر دو امریکی فوجیوں اور ان کے مترجم کو گرنیڈ پھینک کر زخمی کرنے کا الزام ہے۔
امریکہ میں ایک جج نے محمد جواد کے خلاف مقدمے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور گزشتہ ماہ ان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔امریکہ میں ڈسٹرک کورٹ کے جج ایلن ہوویلی نے کہا کہ محمد جواد کو اگست کے آخر تک رہا کر دیا جائے گا۔
جج نے حکومتی وکلاء پر زور دیا تھا کہ وہ محمد جواد کے خلاف فرد جرم عائد نہ کریں۔جج کا کہنا تھا کہ اس نوجوان نے پہلے ہی بہت کچھ بھگت لیا ہے۔
محمد جواد پیر کی دوپہر کو کابل پہنچے تھے اور شام کو ان کو ان کے خاندان کے حوالے کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کا کہنا تھا کہ وہ محمد جواد کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا تھا۔






















