’ایہود اولمرت لفافے لیتے رہے‘

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت پر بدعنوانی اور کرپشن کے تین مختلف الزامات میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے ان پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان میں ایک امریکی بزنس مین سے رقوم سے بھرے ہوئے لفافے اور اسرائیل کے مختلف رفاہی اداروں سے سفری اخراجات کے جعلی بل وصول کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
بدعنوانی کے ان مقدمات کا تعلق اس دورسے ہے جب ایہود اولمرت یروشلم کے میئر تھے اور بعد میں وہ اسرائیلی کابینہ کے رکن تھے۔
ایہود اولمرت ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیں گے۔
ایہود اولمرت نے ان الزامات لگنے کے بعد گزشتہ سال اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن اس سال مارچ میں بنیامین نتھن یاہو کے منتخب ہونے تک وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہے تھے۔
ایہود اولمرت اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ہیں جن پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔
اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو اویہو اولمرت کو کئی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹنے پڑیں گے۔ حال ہی میں اسرائیلی کابینہ کے دو سابق ارکان کو رشوت اور غبن کے جرائم میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ایہود اولمرت سن دو ہزار چھ میں وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ اسی سال اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر حملہ کر دیا اور اس جنگ میں اسرائیل کی ناکامی کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں شدید کمی واقع ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سال کے شروع میں غزہ پر اسرائیلی حملے سے انہوں نے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کچھ حد تک دوبارہ حاصل کر لی تھی۔
انہوں نے اپنے وزراتِ اعظمیٰ کے دور کا ایک بڑا حصہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے مذاکرات میں گزارا لیکن ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تاہم ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کے بہت قریب تھے۔
ایہود اولمرت نے ایرئیل شیرون سے قدیمہ پارٹی کی باگ دوڑ سنبھالی تھی۔ ایرئیل شیرون سے ان کے اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کے سوال پر پالیسی اختلافات ہو گئے تھے۔






















