جاپان:اہم انتخابات میں ووٹنگ

جاپان پولنگ
،تصویر کا کیپشنپولنگ مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے بند ہوگی
وقت اشاعت

جاپان کے عام انتخابات میں ووٹنگ کا سلسلہ جاری ہے خیال ہے کہ یہ انتخابات ملک میں تاریخی تبدیلیاں لائیں گے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق لبرل ڈیمو کریٹ کی تقریباً پچاس برس کی حکومت کے بعد اس مرتبہ انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی آف جاپان کامیاب ہوگی۔

جاپان بے روزگاری اور کساد بازری کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے اور اس کی معیشت مندی سے نکلنے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔

پولنگ مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے بند ہوگی اور اس کے فوراً بعد ہی جاپانی میڈیا ایگزٹ پول کا اعلان کرے گا۔

پولنگ کے دوران بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے موجودہ وزیرِ اعظم تارو آسو کی قیادت والی لبرل ڈیمو کریٹ پارٹی نے صرف گیارہ ماہ چھوڑ کر 1955 سے اب تک جاپان پر حکومت کی ہے۔

تاہم میڈیا کے انتخابی جائزوں میں پیشن گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی آف جاپان ایوانِ زیریں کی 480 میں سے 300 نشستوں پر قابض ہوگی جو 2005 کے انتخابات کے باکل برعکس ہوگا۔

ڈیمو کریٹک پارٹی آف جاپان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی توجہ کاپوریشن سے ہٹا کر صارفین اور ورکروں کی امداد پر مبذول کرے گی۔پارٹی نے نوکر شاہی کے فالتو اخراجات کو کم کر کے فنڈز کا استعمال بہبود کے کاموں میں کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

دوسری جانب وزیِر اعظم آسو کا کہنا ہے کہ کیا ڈیمو کریٹک پارٹی آف جاپان کے پاس حکومت چلانے کا کوئی تجربہ ہے ۔جاپان کے ایوانِ بالا میں پہلے ہی ڈی جے پی کا کنٹرول ہے جس میں اسے چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان موجودہ مالی بحران کے لیے لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اس لیے اب تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔

ٹوکیو کے ایک 68 سالہ شخص توشی ہیرو نکا مورہ نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں اب ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے کسی ایک پارٹی کے لیے اتنی مدت تک حکومت میں رہنا ٹھیک نہیں ہے‘۔

ہروکو کوراکاتا نام کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلی مرتبہ حکمران پارٹی کے لیے ووٹ دیا تھا لیکن انہوں نے پارٹی میں جلدی جلدی قیادت تبدیل ہونے کے عمل کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار سالوں میں چار مختلف وزراءاعظم کا بنایا جانا احمقانہ لگتا ہے اور وہ بھی عوامی رائے کے بغیر‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ووٹروں کا فیصلہ پالیسیوں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ کیا وہ موجودہ حکومت سے تنگ آگئے ہیں۔