افغانستان: افیون کی کاشت میں کمی

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افیون کی کاشت اور پیدوار میں کافی کمی ہوئی ہے۔
منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق گزشتہ ایک سال میں افیون کی کاشت میں بائیس فیصد کمی آئی ہے جبکہ اس کی پیداوار بھی دس فیصد کم ہوئی ہے۔ افیون کی کاشت اور پیداوار میں سب سے زیادہ کمی ہلمند صوبے میں دیکھا گیا ہے۔
تاہم یہ اعداد و شمار تین سال پہلے سے پھر بھی کم ہیں جب برطانوی فوج نے طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ منشیات کے کاروبار سے نہ صرف شدت پسندی کے لیے سرمایہ میسر آتا ہے بلکہ اس سے افغان ریاست کے وجود کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ہیروئن کا نوے فیصد حصہ افغانستان میں پیدا ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں برطانیہ کی مدد سے ’فوڈ زون‘ متعارف کرانے کے منصوبے کی تعریف کی ہے جس کے تحت کسانوں میں گندم کا بیج تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسے پوست کی جگہ اپنے کھیتوں میں کاشت کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے بیس صوبے پوست فری ہیں۔ تاہم کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان بیس صوبوں میں افیون کی پیدوار اور کاروبار بھی بند ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت افغان افیون کی مارکیٹ انتہائی مندی کا شکار ہے اور افیون کی قیمت گزشتہ دس سالوں میں سب سے کم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کے آنتونیو کوسٹا کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب افغانستان کی صورت حال کے بارے میں ہر طرف مایوسی پائی جاتی ہے ایسی رپورٹ کا آنا ایک اچھی خبر ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سال ہلمند صوبے میں انہتر ہزار آٹھ سو تینتیس ایکڑ پر پوست کی کاشت کی گئی جو سن دو ہزار آٹھ کے ایک لاکھ تین ہزار پانچ سو نوے سے بہت کم ہے۔
تاہم اس سال کے اعداد و شمار بھی سن دو ہزار پانچ کے اعداد و شمار سے دوگنے ہیں جب ہلمند میں صرف ساڑھے چھبیس ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والی افیون کی کل پیداوار کا ساٹھ فیصد صوبہ ہلمند سے آتا ہے۔






















