روایتی لائٹ بلب پر پابندی

فلوریسنٹ
،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ رواتی بلب کے نسبت انرجی سیور فلوریسنٹ بلب 80 فیصد کم بجلی استعمال کرتا ہیں
وقت اشاعت

یورپی یونین روشنی کے لیے انیسویں صدی سے استعمال ہونے والے سو واٹ کے فلامنٹ بلب بنانے اور اس کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔

یورپی یونین کے ستائیس ممالک نے اس پابندی پر پہلے اتفاق کیا تھا اور اس ماہ سے یہ پابندی عمل میں آگئی ہے۔

سو واٹ سے کم طاقتور بلب کے استعمال پر بھی یورپ میں سنہ دو ہزار بارہ تک مرحلے وار پابندی لگا دی جائے گی جب تک کہ مارکیٹ سے روایتی بلب ختم نہیں ہو جاتے۔

انرجی سیور فلوریسنٹ بلب اگرچہ مہنگے ہوتے ہیں لیکن یہ زیادہ عرصہ چلتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کم بجلی خرچ کرنے والے بلب یا فلوریسنٹ لائٹ کم روشنی دیتے ہیں اور روشنی کے لیے حساس لوگوں کو اس سے سر درد یا جلد پر سرخی نمودار ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے۔

یورپی یونین نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کےایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس میں لوگوں کو فِلامنٹ بلب کی جگہ فلوریسنٹ بلب کے استعمال کی طرف راغب کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جو کہ عام بلب کی نسبت 80 فیصد کم توانائی خرچ کرتے ہیں۔

یہ پابندی آلودگی کے اخراج کو کم کرنے کے ہدف کو پورا کرنے کےلیے یورپی یونین کے کیے گئے اقدامات میں سے ایک ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے اس معاہدے پر گزشتہ برس یورپی یونین میں شامل ستائیس ممالک نے دستخط کیے تھے۔

دوسرے ممالک جن میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، کینیڈا اور فلپائن نے بھی روایتی بلب کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔