مغربی چین میں پھر ہنگامے

شن جیانگ
،تصویر کا کیپشناورمچی میں پولیس مظاہرین کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے
وقت اشاعت

مغربی چین کے علاقے شن جیانگ میں، جہاں جولائی میں دو سو لوگ نسلی فسادات میں ہلاک ہوئے تھے، دوبارہ مظاہرے ہوئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ہزار کے قریب ہان چینیوں نے اورومچی میں مظاہرہ کیا جنہیں جولائی کے فسادات کے بعد علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تشویش تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سرنجیں گھونپنے کے الزام میں پندرہ لوگ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اورمچی میں ایک تاجرنے بی بی سی کو بتایا کہ ہان لوگ سکیورٹی کی صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اورمچی میں تقریباً ہر شخص یا ہڑتال پر ہے یا مظاہرہ کر رہا ہے۔

جولائی میں ہونے والے نسلی فسادات چین کی حالیہ تاریخ میں بد ترین فسادات تھے جن میں ایک سو ستانوے لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر لوگ ہان نسل کی چینی تھے، لیکن بیورن ملک کام کرنے والی عالمی اوغر کانگریس کا کہنا ہے کہ اس میں کئی اوغر بھی ہلاک ہوئے تھے۔